24 فروری 2013 - 20:30

قم کے ایک مرجع تقلید نے اپنے درس میں اخلاق کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہ اچھے اخلاق کے ذریعہ پوری دنیا پر حکومت کی جا سکتی ہے کہا: یہ تمام مشکلات جو کل بھی تھیں اور آج بھی دنیا میں ہیں یہ انسان کی بد اخلاقی کی وجہ سے ہیں اگر انسان کے اندر اچھا اخلاق پیدا ہو جائے تو سماج میں کوئی مشکل باقی نہیں رہے گی۔ تنہا سبب جو سماج کی مشکلات کو حل کر سکتا ہے یہی اچھا اخلاق ہے۔

اہلبیت نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ آیت اللہ جوادی آملی نے اپنے ایک درس اخلاق میں اخلاق کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے اخلاق کو دنیا اور آخرت کی سعادت کا سبب قرار دیا اور کہا: اگر دین ہو اور دین کی باتوں پر عمل نہ ہو تو اس کے بہت زیادہ مضر اثرات ہیں جن میں سے بعض طالبان، القاعدہ کی صورت میں دیکھائی دے رہے ہیں یہاں دین کا کڑوا پھل ہے چونکہ دین کے ساتھ علم نہیں ہے اور اگر علم ہو اور دین نہ ہو تو ایک معمولی سے عرصہ میں پہلی اور دوسری عالمی جنگیں وجود پا جاتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا: لہذا قرآن اور اہلبیت (ع) کی تاکید اس بات پر ہے کہ انسانی سماج کو عاقل ہونا چاہیے عقل وہی مکمل دین ہے کہ جس کے ساتھ اخلاق بھی ہے۔حوزہ علمیہ کے برجستہ استاد نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جو شخص عرفان نظری کے مقام پر پہنچ جائے وہ یہیں سے جنت و جہنم کو دیکھ سکتا ہے کہا: کبھی کبھی انسان اخلاق میں اس چیز پر بحث کرتا ہے کہ حسد کیا ہے تکبر کیا ہے تواضع کیا ہے شجاعت کیا ہے سخاوت اور کرامت کیا ہے تاکہ اچھائیوں سے متصف ہو اور برائیوں سے دوری اختیار کرے لیکن اس مرحلہ سے گزر کر  جب عرفان کی منزل پر آ جائے تو وہاں عرفان نظری، علم حصولی ہو گا اور عرفان عملی شہود۔ عرفان نظری میں گفتگو ہوتی ہے کہ خدا کے اسمائے حسنی ہیں اسم اعظم ہے بہشت ہے جہنم ہے جو اس منزل پر پہنچے وہ جنت و جہنم کو دیکھ سکتا ہے اہل بہشت کو دیکھ سکتا ہے اہل جہنم کو دیکھ سکتا ہے یعنی انسان اس مقام پر پہنچ جائے گا کہ جہاں الفاظ سے گفتگو نہیں ہو گی بلکہ مشاہدہ ہو گا۔آیت اللہ جوادی آملی نے اوصاف متقین کے سلسلے میں امیر المومنین علی (ع) کی ایک حدیث کو بیان کرتے ہوئے کہا: اللہ کے بندے جو ابھی یہاں بیٹھے ہیں وہ بہشت کو دیکھ رہے ہیں اہل بہشت کو دیکھ رہے ہیں کہ گویا وہ بہشت میں ہیں اور اس کے نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور جہنم اور اہل جہنم کو دیکھ رہے ہیں جہنم کے شعلوں کو دیکھ رہے ہیں یہ شہود ہے عمل میں اس قدر طاقت نہیں ہے کہ وہ انسان کے کمالات کےساتھ اوپر جائے عمل صرف فقہ کی حد تک ہے اخلاق کی حد تک ہے۔ جو شخص متدین ہے وہ ان دونوں زینوں کے ساتھ اوپر جاتا ہے اس کا کام فقط سمجھنا ہے عرفان نظری کے عنوان سے سمجھنا ہے اور عرفان عملی کے عنوان سے دیکھنا ہے اگر خدانخواستہ وہ ذرہ برابر بد اخلاقی کرے یا خدا نکردہ وہ ذرہ برابر فقہ کے خلاف عمل کرے تو وہی سے سقوط کر جائے گا۔ اس لیے کہ فقہ اور اخلاق اس کے لیے دو زینے ہیں اگر زینہ لڑکھڑا جائے تو وہی سے نیچے گر جائے گا۔ یہ مقام انسانیت ہے۔انہوں نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ اخلاق سے دنیا کو چلایا جا سکتا ہے کہا: یہ تمام مشکلات جو کل بھی تھیں اور آج بھی دنیا میں موجود ہیں انسان کی بد اخلاقی کی وجہ سے ہیں اگر یہ انسان الہی اخلاق کا مالک بن جائے تو کبھی بھی سماج میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ تنہا سبب جو سماج کی مشکلات کو حل کر سکتا ہے اچھا اخلاق ہے۔